AJAL HUNGAM SE PHELE

Wednesday, June 05, 2013


اجلِ ہنگام سے پہلے
اندھیری شام سے پہلے
تمہارا نام لیتے ہیں
سبھی کے نام سے پہلے
اُسے کہنا
ایسے کب بُھلاتے ہیں محبت کو
کئی برسوں کی قُربت کو
گئے بچپن کی محبت کو
اگر اس شہر سے گزرو
تو اے کُونجو، اُسے کہنا
در سبھی، ابھی وا ہیں
میرے گھر آتی راہوں‌ کے
یہ حلقے میری بانہوں‌ کے
اگر ممکن ہو تو لوٹ آئے
سوادِ شام سے پہلے
کسی انجام سے پہلے
کُھلی آنکھوں سے اُسے دیکھوں
اجلِ ہنگام سے پہلے

You Might Also Like

0 blogger-facebook

Contact Us

Name

Email *

Message *